جمعہ 11 ستمبر 2026 - 14:48
مذاکرات سے امید رکھنے والے امریکہ کی وعدہ خلافی اور جرائم دیکھیں، آبنائے ہرمز دشمن کے لیے ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہے

حوزہ/ قم المقدسہ کلمین نماز جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ سید ہاشم حسینی بوشہری نے کہا کہ کچھ لوگ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ امریکہ سے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہوجائیں گے، لیکن مذاکرات کے دوران ہی امریکہ نے ایران پر حملہ کیا اور اپنے معاہدوں کی خلاف ورزی کردی، ایران جنگ کا خواہاں نہیں، لیکن مسلط کی گئی جنگ میں پیچھے بھی نہیں ہٹے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ کلمین نماز جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ سید ہاشم حسینی بوشہری نے کہا کہ کچھ لوگ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ امریکہ سے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہوجائیں گے، لیکن مذاکرات کے دوران ہی امریکہ نے ایران پر حملہ کیا اور اپنے معاہدوں کی خلاف ورزی کردی، ایران جنگ کا خواہاں نہیں، لیکن مسلط کی گئی جنگ میں پیچھے بھی نہیں ہٹے گا۔

قم میں نماز جمعہ کے خطبوں میں آیت اللہ حسینی بوشہری نے کہا کہ رہبر انقلاب کی شہادت کے بعد ایران اور عراق کے عوام کی بڑی تعداد میں شرکت نے ان کی محبت اور عقیدت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ولایت سے محبت کرنے والے لوگوں نے بھی رہبر انقلاب سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام 190 سے زائد راتوں سے میدان میں موجود ہیں اور دشمن کی سازشوں کے باوجود پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ رہبر معظم انقلاب کی قدر کریں اور دشمن کی جانب سے پھیلائی جانے والی افواہوں سے ہوشیار رہیں۔ ان کے مطابق، ایسے وقت میں جب دشمن ملک کے خلاف سرگرم ہے، عوامی سطح پر کمزوریوں کو نمایاں کرنا دشمن کے فائدے کا سبب بن سکتا ہے۔

آیت اللہ حسینی بوشہری نے جنگ کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن نے یہ تصور کیا تھا کہ رہبر انقلاب اور فوجی کمانڈروں کی شہادت سے ایران کمزور ہوجائے گا، لیکن ایرانی عوام خبر ملتے ہی سڑکوں پر نکل آئے اور دشمن کی سازشوں کے سامنے ڈٹ گئے۔

انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کو مذاکرات سے بہت امیدیں وابستہ تھیں، لیکن امریکہ نے مذاکرات کے دوران ہی ایران پر حملہ کرکے اپنے وعدوں اور معاہدوں کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ پسند ملک نہیں، لیکن اگر جنگ مسلط کی جائے تو بھرپور جواب دے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج اور عوام کی طاقت کے باعث امریکہ کی طاقت کا خوف ٹوٹ چکا ہے۔ ان کے بقول، دشمن کی سیاسی اور اقتصادی منصوبہ بندی بھی متاثر ہوئی ہے اور یہ سب ایرانی عوام کی استقامت کا نتیجہ ہے۔

آیت اللہ حسینی بوشہری نے آبنائے ہرمز کو دشمن کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آبنائے ہرمز دشمن کے لیے ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے، اسی طرح باب المندب یمن کے عوام کے اختیار میں ہے۔ انہوں نے یمن کے مجاہدین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی دوست قرار دیتے ہوئے ان کو خراج تحسین پیش کیا۔

خطیب نماز جمعہ نے پہلے خطبے میں تقویٰ اور صبر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے امام علی علیہ السلام کے فرمان کا حوالہ دیا کہ تقویٰ اختیار کرنے میں آنے والی مشکلات برداشت کرنا قیامت کے عذاب کو برداشت کرنے سے کہیں آسان ہے۔

انہوں نے فرد اور معاشرے کی شکست کے آٹھ اسباب بیان کرتے ہوئے اختلاف و انتشار، بیمار دل افراد کی موجودگی، غفلت، جہالت اور انجام سے بے خبری، کامیابی کے لیے قربانی دینے سے گریز، رہبر کی ہدایات سے روگردانی، خیانت اور افواہوں کو اہم عوامل قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے کی کامیابی کے لیے اتحاد، بیداری اور بصیرت ضروری ہے۔ انقلاب اسلامی کی بنیاد بعثت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور واقعۂ غدیر سے جڑی ہے، جبکہ اس کی بقاء قرآن، اہل بیت علیہم السلام اور ان کی تعلیمات سے وابستگی میں ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha